*نماز کی اہمیت اور فضیلت*

 نماز کی اہمیت قرآن و احادیث کی روشنی میں

ایمان و تصحیح عقائد کے مطابق مذہبِ اہل سنت و جماعت کے بعد نماز تمام تر فرئض میں نہایت اہم واعظم ہے ۔قرآن مجید و احادیث نبوی ﷺ اس کی اہمیت سے مالامال ہیں،جابجا اس کی تاکید آئی ہے اور اس کے تارکین پر وعیدفرمائی ہے ۔

    نماز اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک اہم ستون ہے، نماز بدنی عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے، مسلم اور کافر کے درمیان فرق پیدا کرنے والی چیز نماز ہے، اسلام کا شعار نماز ہے،  یہ شیطان کے چہرے کو سیاہ کرتی ہے، مومن کے لیے باعث فخر ہے، نماز کے وقت اللہ تعالی نمازی ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالی انسان کو سجدہ کرتے وقت ہی سب سے زیادہ پسند کرتا ہے ، جب انسان نماز کے لیے تیار ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور نماز کی جانب جتنے قدم بڑھاتاہے اس کے اتنے گناہ معاف کردے جاتے ہیں اور اتناہی ثواب اس کے حق میں لکھ دیا جاتا ہے۔ جنگ میں ہو کوئی چاہے دشمن کی تلوار کے سائے میں یا پھر دشمن کے ڈر سے اپنی جان بچا کر بھاگ رہا ہوں اس وقت بھی نماز کو قضا کی صورت میں ادا کرنا لازم اور فرض ہے،یہ اسلام کا فرمان ہے اور نماز بے شک دارین کی سعادتوں کا ضامن ہے۔

    اللہ عزوجل قرآن مقدس میں ارشاد فرماتاہے:

هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَ○ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ○

ترجمہ: کہ یہ کتاب پرہیزگاروں کو ہدایت ہے ،جوغیب پر ایمان لائے اور نمازقائم رکھتے اور ہم نے جو دیااس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ۔(سورۃ البقرۃ:آیت۳)

اورفرماتاہے :وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ○(  البقرۃ: آیت۴۳)

 ترجمہ : نمازقائم کرواور زکاۃ اداکرو او ررکوع کرنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو۔یعنی مسلمانوں کے ساتھ کہ رکوع ہماری شریعت میں ہے یا تو پھرباجماعت سے نماز ادا کرو۔

اور فرماتاہے :حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى ق وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ○( سورۃ البقرۃ:آیت۲۳۸)

ترجمہ: تمام نمازوں خصوصابیچ والی نماز (عصر)کی محافظت رکھو اوراللہ کے حضور ادب سے کھڑے رہو

اور فرماتاہے : وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَ○

ترجمہ: نماز شان ہے مگر خشوع کرنے والوں پر۔( البقرۃ:۴۵)

 نماز کا مطلقاترک تو سخت ہولناک چیز ہے اسے قضا کرکے پڑھنے والوں کے لے فرماتاہے :

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ○الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ○

 ترجمہ : خرابی ان نمازیوں کے لیے جواپنی نماز سے بے خبر ہیں وقت گزارکر پڑھنے اٹھتے ہیں۔ (سورۃ  الماعون ، آیت:۴،۵)

نماز کی اہمیت اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ رب العزت نے سب احکام اپنے حبیب ﷺ کو زمین پر بھیجے،جب نمازفرض کرنی منظور ہوئی تو حضور ﷺ کواپنے عرش عظیم پر بلا کر اسے فرض کیا اورشب اسرا(یعنی معراج کی رات) میں یہ تحفہ دیا۔

اسی طرح اور فرماتا ہے:

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا○

ترجمہ :کہ بے شک نماز مومنوں پر اپنے مقررہ وقت میں ادا کرنا  فرض ہے۔(سورۃ النساء آیت:۱۰۳)

 اور فرماتا ہے: وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ .

ترجمہ: کہ نماز قائم کرو اور زکوۃ دو۔ (سورۃ البقرۃ: آیت۴۳)

اور فرماتا ہے: وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى یَاْتِیَكَ الْیَقِیْنُ○

ترجمہ : اپنے رب کی اس وقت تک عبادت کر جب تک کہ تیری موت نہ آجائے۔(پ :۱۴، سورۃ الحجر:آیت ۹۹)

اس طریقے سے اللہ تبارک وتعالی نے پورے قرآن میں مختلف مقامات پر مختلف طریقوں سے 186 مرتبہ اپنے بندوں کو نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ نماز تمام برائیوں سے روکتی ہے جیسا کہ قرآن مقدس میں ذکر ہے ؛

ترجمہ: کہ بے شک نماز تمام برائیوں اور برے کاموں سے روکتی ہے۔(پ :۲۰،سورۃ العنکبوت: آیت۴۵)

 اللہ تعالی اپنے بندوں کو نماز پر پابندی کرنے کی تلقین اس لیے کر رہا ہے تاکہ اس کے بندے ضلالت و گمراہی کے دلدل میں نہ پھنسیں اور حق کی راہ پر گامزن رہیں، تمام تر اختلافات اور مصیبت سے بچے رہیں۔

اگر آپ قرآن مقدس کی تلاوت کریں گے تو بے شمار آیات آپ کو ایسی ملیں گی جو نماز کی فرضیت پر دلالت کرتی ہیں اور آپ جان لوگے کہ بے شک نماز ہر حال میں فرض ہے اور اس سے بچنے کا کوئی چارہ کار نہیں۔

یقیناً نماز ہر حال میں فرض ہے صاحب! کیونکہ نماز ہی ایک ایسی عبادت ہے جو دنیا میں تو ساتھ دیتی ہی ہے مرجانے کے بعد قبر میں بھی ساتھ دیتی ہے اور کل بروز قیامت آپ کی نماز آپ کے ساتھ ہوگی اور آپ کی شفاعت کرے گی اور کہے گی یا اللہ یہ تیرا بندہ ہے جو دنیا میں نماز صحیح وقت پر صحیح طریقے سے ادا کیا کرتا تھا اور میری بہت قدر کیا کرتا تھا۔

رسول اکرم سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی روشنی میں نماز کی فضیلت اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں: آقائے دو جہاں فخر کائنات احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:” صلوا کما رأیتمونی ‘‘کہ جس طرح میں نے نماز ادا کی اسی طرح تم بھی ادا کرو۔ دوسری جگہ ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘جس نے نماز ادا کی اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے نماز کو چھوڑا اس نے دین کو چھوڑا‘‘۔

(منیۃ المصلی ،ص:۱۳)

 بلاشبہ نماز مسلمانوں کی ذمہ داری ہونے کے ساتھ ساتھ عام طور پر اسلام کی سب سے اہم عبادت ہے مگر نئی نسل نماز کے معاملے میں بہت کوتاہی برت رہی ہیں اور نماز سے کوسوں دور نظر آ رہی ہے۔ تیسری جگہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں ”العہد الذی بیننا وبینہم الصلاۃ فمن ترکہا فقد کفر‘‘ ۔کہ ہمارے اور ان کے درمیان کا فرق نماز ہے جس نے اس کو چھوڑا وہ کافر ہو گیا ۔(مشکاۃ المصابیح ، ص56 )

اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو نماز کی طرف رغبت دلاتے ہوئے چوتھی جگہ ارشاد فرماتے ہیں :

”الصلوات الخمس والجمعۃ ورمضان إلی رمضان مکفرات لما بینہن إذا اجتنیت الکبائر.‘‘

 پانچ نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے جو ان کے درمیان میں کیے جائیں اگر کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔

پانچویں جگہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:

”أحب الأعمال الی اللہ الصلاۃ .‘‘

اللہ رب العزت کے نزدیک سب سے زیادہ جو عمل محبوب ہے وہ نماز ہے۔ (مشکاۃ المصابیح، ص58 )

  چھٹی جگہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

”من صلی سجدتین لا یسہو فیہما غفر اللہ لہ ما تقدم من ذنبہ. ‘‘

 جس کسی بھی شخص نے دو رکعت نماز پڑھی اور اس میں کچھ بھی نہیں بھولا تو اللہ تعالی اس بندے کے پچھلے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح، 58)

 ساتویں جگہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا  ”أی الأعمال أفضل إلی اللہ قال الصلاۃ.‘‘

اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ کون سا عمل پسندیدہ ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ‘‘تمام تر عبادتوں میں سب سے افضل عمل اللہ کے نزدیک نماز ہے۔‘‘ (مشکاۃ المصابیح، ص:60)

آپ غور کریں کہ اللہ رب العزت نے نماز کو کیوں کر اتنی اہمیت کا حامل بنایا ہے اور کیوں سعادت کی ساری کنجیاں اسی نماز میں پوشیدہ ہیں۔ حبیب کائنات رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ :‘‘ بندے کے کفر اور ایمان کے درمیان جو چیز حائل ہے وہ نماز ہے اگر کسی نے اسے چھوڑا تو دین سے خارج ہوگیا‘‘۔ اور ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ جس نے نماز کا اعتبار نہیں کیا تو نماز اس کے لئے نور، روشنی اور نجات نہیں بنے گی بلکہ وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا (امام احمد بن حنبل)۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ہماری طرح نماز پڑھے، ہمارے قبلے کو مانے اور ہمارے ذبیحہ کو کھائے وہ ہماری ہی طرح ہے اور ہمارے حقوق اس کے لیے بھی ہے۔

معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:” ہر چیز کی بنیاد اسلام ہے اسلام کی بنیاد نماز ہے‘‘۔

مہجن بن ادرعی الاسلامی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے چلے گئے واپس آئے تو مہجن کو ادھر ہی بیٹھا پایا۔یہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اچھا تم نے نماز کیوں نہیں پڑھا؟ کیا تم مسلمان نہیں ہو؟ یہ سن کر مہجن نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے گھر سے ہی پڑھ لیا ہے۔یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم مسجد میں آئے ہو تو لوگوں کے ساتھ ہی نماز پڑھو اگرچہ تم نے گھر سے نماز پڑھ لیا ۔

(احمد بن حنبل، نسائی)

میں نے یہاں بہت سی احادیث اور قرآنی آیات کو پیش کیا ہے تاکہ آپ تمام حضرات نماز کی اہمیت اور افادیت کو جان سکیں اور صحیح معنوں میں نماز کو ادا کر سکیں کیونکہ نماز ہی سے آپ کی دنیا سنورے گی، قبر کی اندھیری رات میں نماز ہی کام آئے گی اور روز محشر نماز ہی آپ کی شفاعت کرے گی اور آپ کے حق میں گواہی دے گی کہ اے اللہ اس شخص کو معاف کردے یہ مجھے پابندی کے ساتھ پڑھا کرتا تھا۔ مگر مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ آج ہم اس دور جدید میں نماز کو بھلا بیٹھے ہیں، نماز پڑھنے میں کوتاہی برت رہے ہیں اور چھوڑنے کے عادی اس طرح بن چکے ہیں گویا نماز فرض ہی نہیں معاذ اللہ! اللہ ہمیں ہدایت دے۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی دنیاوی اور اخروی زندگی کامیابی کے ساتھ ہم کنار ہو اور آپ یہاں بھی سعادت مندوں کی فہرست میں شمار ہو اور وہاں بھی سعادت مندوں کی فہرست میں آپ کا شمار ہو تو آپ نماز کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنا لو یقیناً نماز ہر مشکل حالات میں آپ کے ساتھ کھڑی رہے گی اور کامیابی قدموں کے نیچے ہو گی۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ‘‘الصلاۃ مفتاح الجنۃ ‘‘کہ بے شک نماز جنت کی کنجی ہے۔ بس آپ اس حدیث سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو شخص بھی اس فانی دنیا میں نماز کی پابندی کرے گا اور صحیح طریقے سے نماز پڑھے گا تو بے شک نماز اس کے حق میں جنت کی کنجی ہے اور دوجہاں میں وہ شخص کامیاب ہو جائے گا اور کبھی بھی اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوگا۔

دین کا ستون

ترمیم

ہر عبادت کا ایک ستون اور پایہ ہوتا ہے جس پر پوری عمارت کا دارو مدار ہوتا ہے، اگر کبھی اس ستون پر کوئی آفت آجائے تو پوری عمارت زمیں بوس ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سے نماز ایک دیندار انسان کے دین و عقائد کے لیے ایک ستون کے مانند ہے۔ علی ابن ابی طالب تمام مسلمانوں اور مؤمنوں کو وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

اوصیکم بالصلوة ، و حفظھا فانھا خیر العمل و ہی عمود دینکم
ترجمہ: میں تم سب کو نماز کی اور اس کی پابندی کی وصیت کرتا ہوں اس لیے کہ نماز بہترین عمل اور تمھارے دین کا ستون ہے۔

محمد باقر فرماتے ہیں :

بنی الاسلام علی خمسة: الصلوة و الزکاة و الحج و الصوم و الولایة
ترجمہ:اسلام کی عمارت پانچ چیزوں پر استوار ہے: نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ اور اہلبیت علیہم السلام کی ولایت۔

مومن کی معراج

ترمیم

نماز انسان کو بلند ترین درجہ تک پہنچانے کا ذریعہ ہے جس کو معراج کہتے ہیں۔بزرگوں کا قول ہے[2]

الصلوة معراج المومن
ترجمہ:نماز مومن کی معراج ہے۔

نمازی اللہ اکبر کہتے ہی مخلوقات سے جدا ہو کر ایک روحانی اور ربانی سفر کا آغاز کرتا ہے جس سفر کا مقصد خالق و مالک سے راز و نیاز اور اس سے گفتگو کرنا ہے اور اپنی بندگی کا اظہار کرنا، اس سے ہدایت و راہنمائی اور سعادت و خوش بختی طلب کرنا ہے۔

ایک دوسری حدیث میں فرمایا ہے:

الصلوة تبلغ العبد الی الدرجة العلیا
ترجمہ: نماز بندے کو بلند ترین درجہ تک پہنچاتی ہے

ایمان کی نشانی

ترمیم

نماز عقیدہ کی تجلی، ایمان کا مظہر اور انسان کے خدا سے رابطہ کی نشانی ہے۔ نماز کو زیادہ اہمیت دینا ایمان اور عقیدہ سے برخورداری کی علامت ہے اور نماز کو اہمیت نہ دینا منافقین کی ایک صفت ہے۔ خدا وند عالم نے قرآن میں اس کو منافقین کی ایک نشانی قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے :

” ان المنافقین لیخادعون اللہ وھو خادعھم و اذا قاموا الی الصلواة قاموا کسالی یراء ون الناس و لا یذ کرون اللہ الا قلیلا

ترجمہ: منافقین خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں جبکہ خدا خود ان کے فریب کو ان کی طرف پلٹا دیتا ہے اور منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی اور کاہلی کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور لوگوں کو دکھاتے ہیں اور بہت کم اللہ کو یاد کرتے ہیں۔

شکر گزاری کا بہترین ذریعہ

ترمیم

منعم (نعمت دینے والے) کا شکر ادا کرنا ہر انسان بلکہ ہر حیوان کی طبیعت میں شامل ہے۔ اس لیے کہ شکر گزاری نعمت دینے والے کی محبت اور نعمت و برکت میں اضافہ کا سبب ہے۔ شکر کبھی زبانی ہوتا ہے اور کبھی عملی۔ نماز ایک عبادت اور خدا کی نعمتوں پر اظہار شکر ہے جو زبانی اور عملی شکر کا ایک حسین مجموعہ ہے۔

میزان عمل

ترمیم

رسول خدا فرماتے ہیں:

الصلوٰۃ میزان
ترجمہ: نماز ترازو ہے۔

جعفر صادق فرماتے ہیں :

اول ما یحاسب بہ العبد الصلوۃ فاذا قبلت قبل سائر عملہ و اذا ردت ردّ علیہ سائر عملہ
ترجمہ: سب سے پہلے انسان سے آخرت میں نماز کے بارے میں پوچھا جائے گا اگر نماز قبول کر لی گئی تو تمام اعمال قبول کرلیے جائیں گے اور اگر رد کر دی گئی تو دوسرے سارے اعمال رد کر دیے جائیں گے۔

مندرجہ بالا فرامین کی روشنی میں نماز دوسری عبادتوں کی قبولیت کے لیے میزان و ترازو کے مانند ہے نماز کو اس درجہ اہمیت کیوں نہ حاصل ہو جبکہ نماز دین کی علامت و نشانی ہے۔

ہر عمل نما ز کا تابع

ترمیم

چونکہ نماز دین کی بنیاد اور اس کا ستون ہے۔عمل کی منزل میں بھی ایسا ہی ہے کہ جو شخص نماز کو اہمیت دیتا ہے وہ دوسرے اسلامی دستورات کو بھی اہمیت دے گا اور جو نماز سے بے توجہی اور لاپروائی کرے گا وہ دوسرے اسلامی قوانین سے بھی لا پروائی برتے گا۔ گویا نماز اور اسلام کے دوسرے احکام کے درمیان لازمہ اور ایک طرح کا رابطہ پایا جاتا ہے۔

اسی لیے حضرت علی علیہ السلام نے محمد بن ابی بکر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

و اعلم یا محمد ( بن ابی بکر ) ان کل شے تبع لصلاتک و اعلم ان من ضیع الصلاة فھو لغیرھا اضیع
ترجمہ: اے محمد بن ابی بکر! جان لو کہ ہر عمل تمھاری نماز کا تابع اور پیرو ہے اور جان لو جس نے نماز کو ضائع کیا اور اس سے لا پروائی برتی وہ دوسرے اعمال کو زیادہ ضائع کرنے والا اور اس سے لا پروائی برتنے والا ہے۔


روز قیامت پہلا سوال

ترمیم

قیامت اصول دین میں سے ایک یے اور یہ وہ دن ہے کہ جب تمام انسانوں کو حساب و کتاب کے لیے میدان محشر میں حاضر کیا جائے گا۔ روایات کی روشنی میں اس دن سب سے پہلا عمل جس کے بارے میں انسان سے سوال کیا جائے گا، نماز ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

اول ما ینظر فی عمل العبد فی یوم القیامة فی صلاتہ
ترجمہ:روز قیامت بندوں کے اعمال میں سب سے پہلے جس چیز کو دیکھا جائے گا وہ نماز ہے۔

نمازی کے ساتھ ہر چیز خدا کی عبادت گزار

ترمیم

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

ان الانسان اذا کان فی الصلاۃ فان جسدہ و ثیابہ و کل شے حولہ یسبح
ترجمہ: جب انسان حالت نماز میں ہوتا ہے تو اس کا جسم ،کپڑے اور اس کے ارد گرد موجودساری اشیاء خدا کی تسبیح و تہلیل کرتی ہیں۔


نماز کے اثرات اور فوائد

ترمیم

نماز کے بہت سے فائدے اور اثرات ہیں جو نمازی کی دنیاوی اور اخروی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے۔

گناہوں سے دوری کا ذریعہ

ترمیم

انسان ہمیشہ ایک ایسی قوی اور طاقتور چیز کی تلاش میں رہتا ہے جو اسکوقبیح اور برے کاموں سے روک سکے تاکہ ایسی زندگی گزار سکے جو گناہوں کی زنجیر سے آزاد ہو۔ قرآن کی نگاہ میں وہ قوی اور طاقتور چیز نماز ہے۔

إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ
بے شک نماز گناہوں اور برائیوں سے روکتی ہے۔

اس آیت کی روشنی میں نماز وہ طاقتور اور قوی شے ہے جو انسان کے تعادل و توازن کو حفظ کرتی ہے اور اس کو برائیوں اور گناہوں سے روکتی ہے۔

گناہوں کی نابودی کا سبب

ترمیم

چونکہ انسان جائز الخطا ہے اور کبھی کبھی چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے گناہ کا مرتکب ہو جاتا ہے اور ہر گناہ انسان کے دل پر ایک تاریک اثر چھوڑ جاتا ہے جو نیک کام کے انجام دینے کی رغبت اور شوق کو کم اور گناہ کرنے کی طرف رغبت اور میل کو زیادہ کر دیتا ہے۔ ایسی حالت میں عبادت ہی ہے جو گناہوں کے ذریعہ پیدا ہونے والی تیرگی اور تاریکی کو زائل کر کے دل کو جلاء اور روشنی دیتی ہے۔ انھیں عبادتوں میں سے ایک نماز ہے۔ خدا وندعالم نے فرماتا ہے :

إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ “
نماز قائم کرو کہ بے شک نیکیاں گناہوں کو نیست و نابود کر دیتی ہیں بے شک نماز گذشتہ گناہوں سے ایک عملی توبہ ہے اور پروردگار اس آیت میں گنہگاروں کو یہ امید دلا رہا ہے کہ نیک اعمال اور نماز کے ذریعہ تمھارے گناہ محو و نابود ہو سکتے ہیں۔

شیطان کو دفع کرنے کا وسیلہ

ترمیم

شیطان جو انسان کا دیرینہ دشمن ہے اور جس نے بنی آدم کو ہر ممکنہ راستہ سے بہکانے اور گمراہ کرنے کی قسم کھا رکھی ہے، مختلف راستوں، حیلوں اور بہانوں سے انسان کو صراط مستقیم سے منحرف کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اس کی تمام چالبازیوں پر پانی پھیر دیتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک نماز ہے۔ رسول اکرم نے فرماتے ہیں :

لا یزال الشیطان یرعب من بنی آدم ما حافظ علی الصلوات الخمس فاذا ضیعھن تجرء علیہ و اوقعہ فی العظائم
ترجمہ: جب تک اولاد آدم نمازوں کو پابندی اور توجہ کے ساتھ انجام دیتی رہتی ہے اس وقت تک شیطان اس سے خوف زدہ رہتا ہے لیکن جیسے ان کو ترک کرتی ہے شیطان اس پر غالب ہو جاتا ہے اور اس کو گناہوں کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے۔

دافع بلاء

ترمیم

نمازی کو خدا، انبیا علیہم السلام اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے نزدیک ایک خاص درجہ و مقام حاصل ہے جس کی وجہ سے خدا وند عالم دوسرے لوگوں پر برکتیں نازل کرتا ہے اور ان سے بلاؤں اور عذاب کو دور کرتا ہے۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں خدا وند عالم فرماتا ہے :

لولا شیوخ رکع و شباب خشع و صبیان رضع وبھائم رتع لصبت علیکم العذاب صباً
ترجمہ: اے گنہگار و! اگر بوڑھے نمازی، خاشع جوان، شیرخوار بچے اور چرنے والے چوپائے نہ ہوتے تو میں تمھارے گناہوں کی وجہ سے تم پر سخت عذاب نازل کرتا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے اللہ رب العزت ہمیں نماز کا پابند بنائے پکا سچا نمازی بنائے 

Comments

Post a Comment

Popular Posts

اچھی صحت کے راز اچھی صحت کے بارے میں میں آج آپکو کچھ ٹیپس بتاتا ہوں جو آپکے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں 01.رات کو جلدی سونا. 02.رات کو سونے سے پہلے ایسا لباس استعمال کرنا جو آپکی نیند میں خلل نہ ڈالے مثال کے طور پر اکثر ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ ایسا ڈریس استعمال کرتے ہیں جس سے رات کو انکی نیند میں خلل آتا ہے سکون کی نیند سو نہیں سکتے اسیطرح رات کو سونے سے پہلے کوئی چیز نہ کھائیں اس سے مراد سونے سے کم از کم تین گھنٹے پہلے کوئی چیز کھائیں جو سونے تک آپ کے جسم پے بوجھ نہ رہے بلکہ سونے کے ٹائم تک آپ اسے ڈائی جیسٹ کر لیں 03.سونے سے پہلے پانی کا استعمال کم کرنا تا کہ رات کو سوتے ہوئے آپکی نیند میں خلل نہ آئے کیوں کہ اچھی صحت کا راز اچھی نیند ہے نیند پوری نہ ہو یا بندہ سوتے وقت اگر آرام دہ اپنے آپکو محسوس نہ کرے تو صحت کی خرابی کا باعث بنتا ہے صبح جلدی اٹھنا صحت کے لیے بہت اچھا ہے کیوں کہ صبح کی تازہ ہوا انسان کی زندگی میں مثبت کردار ادا کرتی ہے اس لیے اس بات کا باخوبی آپکو پتا ہونا چاہیے پریشانیوں کو اپنے سے دور رکھنا انسان کے بس میں ہے کہ وہ اپنے آپکو کیسے مینج کرتا ہے اگر تو ہر وقت انسان غصے میں رہے تو بھی اسکی صحت پے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر حالات سے بندہ تنگ یو تو اسے چاہیے کے اپنے حالات کو درست کرنے کے لیے ایس جگہ کا انتخاب کرے جہاں اسے ذہنی اور جسمانی سکون ہو کیوں کہ یہ صحت پہ ڈائریکٹ اثر ڈالتا ہے اچھی غذائیں استعمال کرنا سبزیوں کا استعمال زیادہ کرنا کوشش کر کے قدرتی اجزا کو زیادہ ترجیع دینا صاف پانی کا استعمال کرنا تازہ ہوا کے اندر اپنے آپکو زیادہ لے کے جانا آلودگی والے ماحول سے اپنے آپکو بچانا یہ ساری چیزیں اچھی صحت کے لیے کارآمد ثابت ہوتی ہیں