حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ
حضرت آدم علیہ السلام
جب انسان نے پہلے پہل اس زمین پر قدم رکھا تو اللہ نے انسان کو دنیا میں بھیجنے سے پہلے انسان کے زندہ رہنے کے لئے تمام سامان پیدا فرمایا۔ ہوا پانی، آگ اور مٹی یہ انسان کی بنیادی ضرورت تھی اس کے بغیر تو انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا انسان کے جسم میں قوت پیدا کرنے کے لئے کھانا بھی ضروری تھا اس کے لئے اللہ نے پھل پھول، میوے، پودے ہرے بھرے درخت پیدا کئے اس کے علاوہ سر اٹھائے بلند و بالا پہاڑ ، رواں دواں گنگناتے ہوئے چشمے، بل کھاتے دریا، بیکراں سمندر، چاند، سورج، ستارے، غرض کہ ہر وہ چیز جو انسان کے زندہ رہنے کے لئے ضروری تھی، پیدا کی ۔ ان سب چیزوں کے علاوہ انسان کے آرام اور سہولت کے لئے اور چیزوں کی بھی ضرورت تھی وہ بھی پیدا فرمائیں۔
زمین آسمان کے اندر بے شمار چھپے ہوئے خزانے اور وسائل ہیں ، مثلاً لوہا، چاندی ابرق، تیل، کوئلہ اور گیسیں ہیں یہ تمام چیزیں انسان کی ضرورت کی ہیں ان سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے ان تمام چیزوں کو زمین کے اندر سے نکالنے اور دریافت کرنے کے لئے ایک ایسی ذی عقل اور علم رکھنے والی ہستی کی ضرورت تھی جو ان تمام چھپی ہوئی اور اوجھل چیزوں کو ڈھونڈھ کر نکالے اور اپنے ہی لئے کارآمد بنائے یہی ہستی جسے انسان کہا جاتا ہے، انسان کو اللہ نے عقل اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت عطا کی ، پھر دنیا میں بھیجا۔ سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام تھے ۔ انسان کی نسل حضرت آدم علیہ السلام سے چلی اور تمام انسان حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے کے لئے ارادہ ظاہر کیا اور فرشتوں سے کہا ”میں زمین پر اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔ اس پر فرشتوں نے اعتراض کیا اور کہا۔ ” کیا آپ زمین پر انسان کو پیدا کرنے والے ہیں ۔ انسان تو زمین پر فساد برپا کرے گا، اور خون بہائے گا۔ ہم تو تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تیرا شکر بجالاتے ہیں کیا ہم عبادت کے لئے کافی نہیں ہیں۔“
اللہ نے فرمایا ۔ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے ۔“
پھر اللہ نے خود اپنے ہاتھوں سے حضرت آدم علیہ السلام کا پتلا بنایا پھر اسے سنوارا اور اسے مناسب شکل دی اس کے جسم کا ہر حصہ خوبصورتی کے ساتھ بنایا پھر اس مٹی کے پتلے میں اللہ نے اپنی روح پھونکی۔
پھر اللہ نے فرشتوں سے پوچھا کہ چیزوں کے نام بتاؤ اگر تم سچے ہو۔ فرشتوں نے جواب دیا ”ہم نہیں جانتے ، سب سے زیادہ تو آپ جاننے والے ہیں ہم کو تو بس اتنا ہی علم ہے جو آپ نے ہم کو سکھایا ہے آپ پڑے علم اور برکت والے ہیں ۔“
اللہ نے آدم سے کہا۔ اے آدم ان فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتاؤ۔ اللہ نے آدم کو تمام چیزوں کے نام بتا دیئے تو آدم کے علم میں تمام باتیں آگئیں ۔ آدم نے ان چیزوں کے نام بتا دیے تو اللہ نے فرشتوں سے کہا:
کیا میں تم سے نہ کہتا تھا کہ میں آسمانوں اور زمینوں کے اندر کی سب پوشیدہ باتوں کو جانتا ہوں اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو سب کا علم رکھتا ہوں۔“
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو جدہ کر وہ تمام فرشتوں نے آدم کو سجدہ کیا۔ لیکن ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کر دیا وہ غرور کرنے والوں میں سے تھا۔
تجھے کسی چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا ۔“ اللہ نے پوچھا۔ ابلیس نے کہا کہ ” آپ نے انسان کو مٹی سے بنایا اور مجھے آگ سے پیدا کیا ۔
ابلیس کے معنی مایوس اور نا امید ہونا ، اسی لئے کہا گیا کہ جو شخص اللہ سے نا امید ہوتا ہے، وہ ابلیس کے تابع ہوتا ہے جو لوگ ابلیس اور شیطان کے بہکاوے میں آجاتے ہیں وہ پست ہمت ہوتے ہیں جو فرائض ان کے ذمہ ہوتے ہیں وہ ادا نہیں کرتے اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں ۔
جب ابلیس نے سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ نے فرمایا تو آسمان سے اتر تو نے تکبر کیا اور تو ذلیل و خوار ہوا۔
ابلیس نے کہا کہ مجھے قیامت کے دن تک مہلت دیجئے اس پر اللہ نے فرمایا تجھے مہلت دی گئی ۔
ابلیس نے کہا میں تیرے بندوں کو گمراہ کروں گا اور ہر طرف سے ان کو گھیرے میں رکھوں گا وہ تیرا شکر بھی نہیں کریں گے ۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہوا اور جو کچھ کھانا ہے فراغت سے کھاؤ اور ایک خاص درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس درخت کی طرف نہ جانا ورنہ تم ظالم قرار دیئے جاؤ گے۔
چنانچہ آدم اور حضرت بی بی حوا آرام سے رہنے لگے تو شیطان نے دونوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ تمہارے رب نے تم دونوں کو اس درخت کے قریب جانے سے اس لئے منع فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہنے لگو میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور تم دونوں کی بھلائی چاہتا ہوں ۔
شیطان کے فریب میں آکر حضرت آدم اور حوا نے درخت کا پھل چکھا تو دونوں بہشتی لباس سے محروم ہو گئے ان کے جسم سے بہشت کا لباس اتر گیا دونوں اپنے اوپر جنت کے پتے جوڑ جوڑ کر رکھنے لگے ان کے رب نے ان کو پکارا، اور کہاکیا میں نے تم دونوں کو اس درخت کے قریب جانے سے منع نہیں کیا تھا اور یہ نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے۔
حضرت آدم اور حوا دونوں سے غلطی ہوئی انہوں نے اللہ کا حکم نہیں مانا اس غلطی پر دونوں کو سخت ندامت ہوئی ۔ آدم نے اللہ سے معافی طلب کی اور دعا کی: اے میرے رب ہم نے اپنے نفس پر ظلم نے اپنے نفس پر ظلم کیا اگر آپ ہم پر رحم نہ کریں اور ہماری مغفرت نہ کریں تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔“ آدم اور حوا کو زمین پر اتار دیا اور کہا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن رہو گے اور ایک خاص وقت تک تم دونوں کو زمین پر رہنا ہے میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو شخص اس ہدایت کو مانے گا نہ انہیں کسی بات کا اندیشہ ہوگا نہ کوئی غم ، جو میری نصیحت سے منہ موڑے گا اس کے لئے دنیا میں زندگی تنگ ہوگی اور قیامت کے روز اس کو اندھا اٹھا ئیں گے ۔
جب حضرت آدم علیہ السلام آسمان سے اتر کر زمین پر آئے تو وہ فرشتوں کی پاکیزہ باتیں سننے سے محروم ہو گئے اس لئے دل اداس رہنے لگا آپ نے اللہ سے دعا کی اور عرض کیا کہ میں تو فرشتوں کی صحبت سے محروم ہو گیا ہوں اس پر اللہ نے فرمایا آپ مکہ معظمہ جائیں وہاں میرا گھر تعمیر کریں اس کا طواف کریں اور نماز پڑھیں ۔ چنانچہ آپ علیہ السلام جبرئیل امین کے ساتھ مکہ معظمہ گئے وہاں کعبہ کی بنیاد رکھی ، نماز پڑھی اور طواف کیا۔
حضرت آدم علیہ السلام کے واقعہ سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ جس کام کو اللہ نے کرنے سے منع فرمایا ہے وہ نہ کریں جو کام کرنے کا حکم دیا ہے وہی کر کیا ہی عبادت ہے۔ عبادت نیکی ہے، نیکی عبادت ہے۔
*********
Comments
Post a Comment