دولت کے حصول کا ذریعہ دور جدید میں
The Millionaire Next Door
مصنف کا تعارف
زیر نظر کتاب دی ملینیر نیکسٹ ڈور دو مصنفین جن کے نام تھامس ہے سٹینلے ہیں، نے مل کر اور ولیم ڈی ڈیکنو لکھی ہے۔ ڈاکٹر تھامس بے سٹینلے 1944 میں امریکہ کے شہر نیو یارک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے یونیورسٹی آف جار جیا سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کئی معرکتہ آراء کتا بیں لکھیں جو دولت کے حصول پر ان کی ماہرانہ تحقیق ہیں۔ ان کا انتقال 2015 میں ہوا۔ اس کتاب کے دوسرے شریک مصنف ڈاکٹر ولیم ڈی ڈینگو ایک مایہ ناز امریکی محقق ہیں اور وہ اس وقت نیو یارک میں یونیورسٹی آف الہانے میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب پر تحقیق میں پروفیسر سٹینلے کی بھر پور مدد کی ۔ اس کتاب کے علاوہ وہ متعدد مشہور کتابوں کے مصنف ہیں جن میں ان کی مشہور زمانہ کتاب ر چردن آملنیئر نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ہے ۔ دو ڈاکٹر سٹینلے کی وفات کے بعد اب بھی اپنی تحقیق و تحریر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
کتاب کا تعارف
اس کتاب کے مطابق، پرانے وقتوں میں امریکہ میں دولت اکٹھی کرنے کے لئے
لوگ مندرجہ ذیل ذرائع استعمال کرتے تھے
والدین یا رشتہ داروں کی وراثت سے دولت کا حصول
بہترین یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کر دولت کمانا۔
اپنے حریفوں سے زیادہ ذہین اور چالاک ہونا۔
تاہم دور حاضر میں امریکہ میں جہاں ہر چیز بدل چکی ہے؛ وہاں دولت کے حصول کے طریقے بھی بدلے ہیں ۔ حال ہی میں امریکہ میں 1000 کروڑ پتی افراد پر 20 سالہ تحقیق کے مطابق امریکہ میں زیادہ سے زیادہ دولت کے حصول کے لئے یہ طریقے اپنائےجاتے ہیں :۔
بہترین اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کی تلاش
مستقل اور طویل مدتی بچت کی عادات
- خود انتظامی میں بہتری لانا تا کہ ہر ماہ کمائی سے کم خرچ کیا جائے اور بچت سے سرمایہ کاری کی جائے ۔ دوسرے الفاظ میں ، دولت کمانے کے لئے بنیادی اکائیوں میں مالیاتی نظم وضبط ، بچت کی عادت اور بچت کو مفید اور منافع بخش کاموں میں لگانا شامل ہے۔
یوں یہ کتاب مندرجہ بالا تین اہم اور بنیادی اصولوں سے دولت کے حصول کے گر
سکھاتی ہے۔ قارعین میں سے اگر کوئی مالیاتی خود مختاری کا خواہاں ہو تو وہ ان تین اصولوں کو
اپنا کر کے چند ہی سالوں میں دولت سے مالا مال ہو سکتا ہے۔
کتاب کے اہم نکات
اگر کتاب کے اہم نکات پر نظر ڈالی جائے تو کچھ یوں ہیں۔
بچت کی عادت ت اپنانے والے لوگوں کا طرز زندگی سادہ ہوتا ہے اور وہ اپنی آمدنی سے کم خرچ کرتے ہیں۔ وہ آمدنی سے بچائی ہوئی رقم سے سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
وہ وقت ، رقم اور توانائی جیسے وسائل کا تعین کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔
وہ معاشرتی مقام کی بجائے مالی خود مختاری کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں مالی خود مختاری ہی انکو دنیا میں اعلیٰ معاشرتی مقام دلائے گی۔
ان کے والدین ان کی ناکافی مالی امداد کرتے ہیں اور وہ اپنے تئیں کوشش کرتے ہیں۔
وہ معاشی طور پر خود مختار بننے کے لئے اپنے گھر کے افراد کو آگاہی دیتے رہتے ہیں۔
کہ اگلی نسل میں بھی یہی قانون لاگور ہے۔
وہ دنیا میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مواقع تلاش کرتے ہیں۔
وہ ایسا پیشہ اختیار کرتے ہیں جس میں وہ کسی دشواری کے بغیری برسر روزگار ہوجائیں۔
امیرکون ہیں؟
عام طور پر امارت کی تعریف سے متعلق کئی معلومات غلط ہوتی ہیں۔ اس ابہام سے بچنے کے لئے ، امریکہ میں ایک ہزار سے زائد امراء پر بیس برس تک تحقیق کی گئی تا کہ یہ جانا جا سکے کہ حقیقی کامیاب لوگ کون ہیں اور انہوں نے کیسے دولت اکٹھی کی۔ تحقیق کے نتیجے میں مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئے۔1996
تک امریکہ میں 22 ٹرلین ڈالر لوگوں کی ذاتی ملکیت تھے۔ اور صرف 35 فی صد گھرانے اس دولت کے 50 فی صد کے مالک تھے۔
اکثر لوگ دولت اکٹھی کرنے کی بجائے آمدن پر توجہ دیتے تھے ۔ تاہم، ایسا شخص جو اپنی تمام تر آمدنی خرچ کرتا ہے وہ امیر نہیں ہوتا۔ حقیقی دولت مند وہ ہے جو اکٹھی کی گئی دولت کو بچائے نہ کہ خرچ کرے۔
اس وقت امریکہ میں 80 فی صد سے زائد دولت مند افراد پہلی نسل سے ہیں۔ انہوں نے یہ دولت وراثت کی بجائے خود اکٹھی کی ہے۔
پچیس (25) ملین سے زائد امریکی گھرانوں کی سالانہ آمدنی 50,000 ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان گھرانوں میں سے تقریباً ایک تہائی (7 ملین ) گھرانوں کی سالانہ آمدنی 100,000 ڈالر سے زائد ہے۔ اس کے باوجود، اکثر گھرانے تنخواہ پر گزارا کرتے ہیں اور ان کی دولت اور دیگر مالیاتی اثاثہ جات بھی بہت کم ہیں۔
تمام امریکی گھرانوں کے
الف.18.1 فی صد امریکی سیونگز بانڈ کے مالک ہیں۔ 15.0 فی صد منی مارکیٹ ڈیپازٹ اکاونٹ کے حامل ہیں۔
ب۔8.4 فی صد کرایہ کی املاک رکھتے ہیں ۔ 4.2 فی صد کے منی مارکیٹ فنڈ میں رقو رقوم ہیں۔
ج۔ 3.4 فی صد کارپوریٹ یا میونسپل بانڈ ز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں
د۔ 2.5 فی صد کے میوچل فنڈ ز میں ذاتی ذخیرہ اور سرمایہ کاری کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment